Sukhan AI
غزل

جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے

جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: है

یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن اور اس کی دلکش خوشبو کو بख़وبی پیش کرتی ہے جو بہترین کستوری سے بھی کہیں زیادہ بہتر ہے۔ اس میں محبوب کے جلوے کی ایک شدید اور عالمگیر خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں ہر سمت ایک جھلک پانے کو بے تاب ہے۔ یہ اشعار عشق کی گہری نوعیت کو بھی نمایاں کرتے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ اس کی شدت سے وسیع فضائیں بھی تنگ محسوس ہوتی ہیں، اور محبوب کو دیکھنے کے عمل میں دل کی خواہش اور آنکھ کی کارروائی کے درمیان اندرونی کشمکش کو بیان کرتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जिस जा नसीम शाना-कश-ए-ज़ुल्फ़-ए-यार है नाफ़ा दिमाग़-ए-आहु-ए-दश्त-ए-ततार है
جس جا نسیم محبوب کی زلفوں کو شانہ کش ہے، وہاں نافہ دشت تاتار کے ہرن کا جوہر ہے۔
2
किस का सुराग़ जल्वा है हैरत को ऐ ख़ुदा आईना फ़र्श-ए-शश-जहत-ए-इंतिज़ार है
اے خدا، یہ کس کے جلوے کا سراغ ہے جو حیرت کو بھی حیران کر دیتا ہے؟ آئینہ (دنیا) چھ سمتوں میں انتظار کا فرش بچھائے ہوئے ہے۔
3
है ज़र्रा ज़र्रा तंगी-ए-जा से ग़ुबार-ए-शौक़ गर दाम ये है वुसअ'त-ए-सहरा शिकार है
ہر ذرّہ جگہ کی تنگی سے شوق کا غبار ہے؛ اگر یہ دام ہے، تو صحرا کی وسعت اس کا شکار ہے۔
4
दिल मुद्दई' ओ दीदा बना मुद्दा-अलैह नज़्ज़ारे का मुक़द्दमा फिर रू-ब-कार है
دل مدعی اور آنکھ مدعا علیہ بن گئی ہے؛ نظارے کا مقدمہ ایک بار پھر رو بہ کار ہے۔
5
छिड़के है शबनम आईना-ए-बर्ग-ए-गुल पर आब ऐ अंदलीब वक़्त-ए-वदा-ए-बहार है
شبنم گلاب کی پتیوں کے آئینے پر پانی چھڑک رہی ہے۔ اے بلبل، بہار کے رخصت ہونے کا وقت ہے۔
6
पच आ पड़ी है वादा-ए-दिल-दार की मुझे वो आए या न आए पे याँ इंतिज़ार है
میں اپنے محبوب کے وعدے کی وجہ سے ایک مشکل صورتحال میں آ گیا ہوں۔ وہ آئیں یا نہ آئیں، مجھے تو یہاں ان کا انتظار کرنا ہے۔
7
बे-पर्दा सू-ए-वादी-ए-मजनूँ गुज़र न कर हर ज़र्रा के नक़ाब में दिल बे-क़रार है
مجنوں کی وادی کی طرف بے پردہ گزر نہ کرو، کیونکہ ہر ذرہ، اگرچہ وہ ڈھکا ہوا ہے، ایک بے قرار دل رکھتا ہے۔
8
ऐ अंदलीब यक कफ़-ए-ख़स बहर-ए-आशयाँ तूफ़ान-ए-आमद आमद-ए-फ़स्ल-ए-बहार है
اے عندلیب، اپنے آشیانے کے لیے بس مٹھی بھر خس اکٹھے کر لے؛ فصلِ بہار کی آمد کا طوفان آنے والا ہے۔
9
दिल मत गँवा ख़बर न सही सैर ही सही ऐ बे-दिमाग़ आईना तिमसाल-दार है
دل مت گنواؤ؛ اگر کوئی خبر یا بصیرت نہ ملے، تو محض نظارہ ہی کافی ہے۔ اے بےدماغ، آئینہ خود ہی تصویروں کا حامل ہے۔
10
ग़फ़लत कफ़ील-ए-उम्र ओ 'असद' ज़ामिन-ए-नशात ऐ मर्ग-ए-ना-गहाँ तुझे क्या इंतिज़ार है
غفلت عمر کی کفیل ہے اور 'اسد' نشاط کا ضامن ہے۔ اے ناگہانی موت، تجھے کس بات کا انتظار ہے?
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.