Sukhan AI
दिल मुद्दई' ओ दीदा बना मुद्दा-अलैह
नज़्ज़ारे का मुक़द्दमा फिर रू-ब-कार है

The heart, the plaintiff, and the eye has become the defendant;The lawsuit of gazing is again afoot.

مرزا غالب
معنی

دل مدعی اور آنکھ مدعا علیہ بن گئی ہے؛ نظارے کا مقدمہ ایک بار پھر رو بہ کار ہے۔

تشریح

یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app