غزل
غنچۂ ناشگفتہ کو دُور سے مت دکھا کہ یُوں
غنچۂ ناشگفتہ کو دُور سے مت دکھا کہ یُوں
یہ غزل عاشق کی سیدھی محبت کی آرزو اور محبوب کی اداؤں سے اس کی بے تابی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں محبوب کی دل فریبی، رقیب کے ساتھ اس کی موجودگی سے پیدا ہونے والا درد اور سوالوں پر اس کے بے باک جوابوں کی عکاسی کی گئی ہے، جو عاشق کی گہری تڑپ اور ادھوری حسرتوں کو اجاگر کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ग़ुंचा-ए-ना-शगुफ़्ता को दूर से मत दिखा कि यूँ
बोसे को पूछता हूँ मैं मुँह से मुझे बता कि यूँ
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
ادھ کھلے غنچے کو دور سے یوں مت دکھاؤ۔ میں بوسے کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، مجھے اپنے منہ سے بتاؤ کہ یہ کیسا ہے۔
2
पुर्सिश-ए-तर्ज़-ए-दिलबरी कीजिए क्या कि बिन कहे
उस के हर एक इशारे से निकले है ये अदा कि यूँ
پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہے
اس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں
اُس کی دلکشی کے انداز کے بارے میں کیا پوچھیں؟ کیونکہ بغیر کچھ کہے ہی، اُس کے ہر اشارے سے یہ ادا ظاہر ہوتی ہے کہ 'یہ ایسے ہی ہے'۔
3
रात के वक़्त मय पिए साथ रक़ीब को लिए
आए वो याँ ख़ुदा करे पर न करे ख़ुदा कि यूँ
رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ رات کے وقت شراب پی کر، رقیب کو ساتھ لیے ہوئے، وہ یہاں آئیں۔ پر خدا نہ کرے کہ وہ اس طرح (رقیب کے ساتھ) آئیں جو بہت دکھ کا باعث ہو۔
4
ग़ैर से रात क्या बनी ये जो कहा तो देखिए
सामने आन बैठना और ये देखना कि यूँ
غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
سامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں
جب پوچھا کہ غیر سے رات کیا بنی، تو دیکھیے: وہ سامنے آ کر بیٹھ گئے اور اس طرح دیکھنے لگے گویا کہہ رہے ہوں کہ 'بس ایسا ہی ہے۔'
5
बज़्म में उस के रू-ब-रू क्यूँ न ख़मोश बैठिए
उस की तो ख़ामुशी में भी है यही मुद्दआ कि यूँ
بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
اُن کی محفل میں اُن کے رُو بہ رُو خاموش بیٹھنا چاہیے۔ کیونکہ اُن کی خاموشی میں بھی یہی مطلب ہے کہ 'یوں ہی ہے'۔
6
मैं ने कहा कि बज़्म-ए-नाज़ चाहिए ग़ैर से तही
सुन के सितम-ज़रीफ़ ने मुझ को उठा दिया कि यूँ
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
میں نے کہا کہ محبوب کی محفل رقیبوں سے خالی ہونی چاہیے۔ یہ سن کر اس ستم ظریف نے مجھے ہی اٹھا دیا، گویا کہ میں ہی وہاں غیر تھا۔
7
मुझ से कहा जो यार ने जाते हैं होश किस तरह
देख के मेरी बे-ख़ुदी चलने लगी हवा कि यूँ
مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرح
دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
میرے محبوب نے مجھ سے پوچھا کہ ہوش کس طرح جاتے ہیں۔ میری بے خودی دیکھ کر ہوا یوں چلنے لگی، جیسے بتا رہی ہو کہ اسی طرح ہوش جاتے ہیں۔
8
कब मुझे कू-ए-यार में रहने की वज़्अ याद थी
आइना-दार बन गई हैरत-ए-नक़्श-ए-पा कि यूँ
کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
آئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں
مجھے کب محبوب کی گلی میں اپنی موجودگی کا انداز یاد تھا؟ میرے نقشِ پا کی حیرت ہی آئینہ دار بن گئی اور یوں میرا حال ظاہر ہوا۔
9
गर तिरे दिल में हो ख़याल वस्ल में शौक़ का ज़वाल
मौज मुहीत-ए-आब में मारे है दस्त-ओ-पा कि यूँ
گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
اگر تیرے دل میں وصل کے دوران شوق کے زوال کا خیال آئے، تو دیکھو کہ گھیرنے والے پانی میں موج کس طرح دست و پا مارتی ہے۔
10
जो ये कहे कि रेख़्ता क्यूँके हो रश्क-ए-फ़ारसी
गुफ़्ता-ए-'ग़ालिब' एक बार पढ़ के उसे सुना कि यूँ
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
اگر کوئی پوچھے کہ ریختہ (اردو/ہندی شاعری) فارسی شاعری سے حسد کیوں کر سکتی ہے، تو اسے ایک بار غالب کا کلام پڑھ کر سناؤ، اور اس طرح اسے دکھاؤ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
