غزل
بزمِ شہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
بزمِ شہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
یہ غزل بادشاہ کی بزم میں شاعری کے شاندار افتتاح سے آغاز ہوتی ہے، اس عظیم نظارے کو رات میں چمکتے ستاروں کے نمودار ہونے یا بت کدے کے قابل احترام دروازوں کے کھلنے جیسا بیان کرتی ہے۔ پھر یہ انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں پر آتی ہے، جہاں ایک زیرک دل دھوکے کو پہچان لیتا ہے، چاہے وہ کسی قابل بھروسہ دوست سے ہی کیوں نہ ہو۔ بالآخر، شاعر محبوب کے "کھلنے" میں گہرا معنی پاتا ہے، خواہ ان کے اسرار اب بھی پوشیدہ رہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बज़्म-ए-शाहंशाह में अशआ'र का दफ़्तर खुला
रखियो या रब ये दर-ए-गंजीना-ए-गौहर खुला
شہنشاہ کی محفل میں اشعار کا دفتر کھل گیا۔ اے رب، موتیوں کے اس خزانے کا دروازہ کھلا رکھنا۔
2
शब हुई फिर अंजुम-ए-रख़्शन्दा का मंज़र खुला
इस तकल्लुफ़ से कि गोया बुत-कदे का दर खुला
رات ہوئی تو پھر چمکتے ستاروں کا منظر دکھائی دیا۔ یہ اتنے اہتمام سے ہوا، گویا بت خانے کا دروازہ کھل گیا ہو۔
3
गरचे हूँ दीवाना पर क्यूँ दोस्त का खाऊँ फ़रेब
आस्तीं में दशना पिन्हाँ हाथ में नश्तर खुला
اگرچہ میں دیوانہ ہوں، مگر میں اپنے ایسے دوست کے فریب میں کیوں آؤں جس کی آستین میں خنجر چھپا ہے اور ہاتھ میں نشتر کھلا ہوا ہے۔
4
गो न समझूँ उस की बातें गो न पाऊँ उस का भेद
पर ये क्या कम है कि मुझ से वो परी-पैकर खुला
گو میں اس کی باتیں نہ سمجھوں اور نہ ہی اس کا بھید پا سکوں، پر کیا یہ کم ہے کہ وہ پری جیسی حسین ہستی مجھ پر ظاہر ہوئی؟
5
है ख़याल-ए-हुस्न में हुस्न-ए-अमल का सा ख़याल
ख़ुल्द का इक दर है मेरी गोर के अंदर खुला
حسن کے خیال میں نیک عمل کے خیال جیسا ہی خیال ہے۔ میری قبر کے اندر جنت کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے۔
6
मुँह न खुलने पर है वो आलम कि देखा ही नहीं
ज़ुल्फ़ से बढ़ कर नक़ाब उस शोख़ के मुँह पर खुला
جب اس کا منہ نہیں کھلتا تو ایسا عالم ہوتا ہے کہ گویا اسے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ اس شوخ حسینہ کے چہرے پر اس کی زلفوں سے بھی زیادہ بڑا ایک نقاب کھل گیا۔
7
दर पे रहने को कहा और कह के कैसा फिर गया
जितने अर्से में मिरा लिपटा हुआ बिस्तर खुला
انہوں نے مجھے اپنے دروازے پر رہنے کو کہا، مگر یہ کہنے کے بعد وہ کتنی جلدی بدل گئے۔ یہ سب اتنے ہی عرصے میں ہوا جتنے میں میرا لپٹا ہوا بستر کھلتا ہے۔
8
क्यूँ अँधेरी है शब-ए-ग़म है बलाओं का नुज़ूल
आज उधर ही को रहेगा दीदा-ए-अख़्तर खुला
شبِ غم اتنی تاریک کیوں ہے اور بلائیں کیوں نازل ہو رہی ہیں؟ آج رات ستاروں کی آنکھیں اُسی طرف کھلی رہیں گی۔
9
क्या रहूँ ग़ुर्बत में ख़ुश जब हो हवादिस का ये हाल
नामा लाता है वतन से नामा-बर अक्सर खुला
میں غربت میں کیسے خوش رہوں جب حادثات کا یہ حال ہو؟ وطن سے آنے والا نامہ بر اکثر کھلا خط لاتا ہے۔
10
उस की उम्मत में हूँ मैं मेरे रहें क्यूँ काम बंद
वास्ते जिस शह के 'ग़ालिब' गुम्बद-ए-बे-दर खुला
میں اس کی امت میں ہوں، تو میرے کام کیوں رکے رہیں؟ جس بادشاہ کے لیے، غالب، بے در گنبد کھل گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
