गरचे हूँ दीवाना पर क्यूँ दोस्त का खाऊँ फ़रेब
आस्तीं में दशना पिन्हाँ हाथ में नश्तर खुला
“Though I am mad, why should I fall for a friend's deceit? A dagger hidden in the sleeve, a lancet held openly in hand.”
— مرزا غالب
معنی
اگرچہ میں دیوانہ ہوں، مگر میں اپنے ایسے دوست کے فریب میں کیوں آؤں جس کی آستین میں خنجر چھپا ہے اور ہاتھ میں نشتر کھلا ہوا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
