غزل

واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں

واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 7 shers· radif: ऐसे शख़्स हैं

یہ غزل غم کے ساتھ عاشق کے گہرے قلبی تعلق اور عشق میں اس کے پختہ وقار کی عکاس ہے۔ شاعر رنج و الم کو اپنا دیرینہ ہمدم قرار دیتا ہے اور جنون کی ایسی بلندی بیان کرتا ہے جس کے آگے مجنوں جیسے عشاق بھی سر تسلیم خم کرتے ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
वाक़िफ़ हैं हम कि हज़रत-ए-ग़म ऐसे शख़्स हैं और फिर हम उन के यार हैं हम ऐसे शख़्स हैं
واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں اور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیں
ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرتِ غم کیسی ہستی ہیں، اور پھر ہم ان کے دوست ہیں یعنی ہم بھی ویسے ہی شخص ہیں۔
2
दीवाने तेरे दश्त में रक्खेंगे जब क़दम मजनूँ भी लेगा उन के क़दम ऐसे शख़्स हैं
دیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدم مجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں
جب تیرے عشق کے دیوانے صحرا میں قدم رکھیں گے تو مجنوں بھی ان کے قدم چومے گا، کیونکہ وہ ایسے عظیم مرتبے والے لوگ ہیں۔
3
जिन पे हों ऐसे ज़ुल्म ओ सितम हम नहीं वो लोग हों रोज़ बल्कि लुत्फ़ ओ करम ऐसे शख़्स हैं
جن پہ ہوں ایسے ظلم و ستم ہم نہیں وہ لوگ ہوں روز بلکہ لطف و کرم ایسے شخص ہیں
ہم وہ لوگ نہیں ہیں جن پر اس طرح کے ظلم و ستم کیے جائیں، بلکہ ہم تو ایسے شخص ہیں جن پر روزانہ لطف و کرم اور عنایات ہوتی ہیں۔
4
यूँ तो बहुत हैं और भी ख़ूबान-ए-दिल-फ़रेब पर जैसे पुर-फ़न आप हैं कम ऐसे शख़्स हैं
یوں تو بہت ہیں اور بھی خوبان دل فریب پر جیسے پر فن آپ ہیں کم ایسے شخص ہیں
یوں تو دل کو لبھانے والے اور بھی کئی خوبصورت لوگ ہیں، لیکن آپ جیسے ہنرمند اور باکمال شخص بہت کم ہیں۔
5
क्या क्या जफ़ा-कशों पे हैं उन दिलबरों के ज़ुल्म ऐसों के सहते ऐसे सितम ऐसे शख़्स हैं
کیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلم ایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں
ان محبوبوں کے مصیبت جھیلنے والے عاشقوں پر کیا کیا ظلم ہیں؛ ایسے لوگوں کے ایسے ستم صرف یہی لوگ برداشت کر سکتے ہیں۔
6
दीं क्या है बल्कि दीजिए ईमान भी उन्हें ज़ाहिद ये बुत ख़ुदा की क़सम ऐसे शख़्स हैं
دیں کیا ہے بلکہ دیجئے ایمان بھی انہیں زاہد یہ بت خدا کی قسم ایسے شخص ہیں
دین تو معمولی چیز ہے بلکہ ان پر اپنا ایمان بھی نچھاور کر دینا چاہیے؛ اے زاہد، خدا کی قسم یہ بت (محبوب) ایسے ہی لوگ ہیں۔
7
आज़ुर्दा हूँ अदू के जो कहने पे ऐ 'ज़फ़र' ने ऐसे शख़्स वो हैं न हम ऐसे शख़्स हैं
آزردہ ہوں عدو کے جو کہنے پہ اے ظفرؔ نے ایسے شخص وہ ہیں نہ ہم ایسے شخص ہیں
اے ظفر، میں دشمن کی باتوں پر کیوں آزردہ ہوں؟ نہ تو وہ (محبوب) ایسے شخص ہیں اور نہ ہی ہم ایسے انسان ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.