کیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلم ایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں

“What endless torments those heart-stealers inflict upon the long-suffering— / only such rare souls could endure such cruelties from ones like them!”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

ان محبوبوں کے مصیبت جھیلنے والے عاشقوں پر کیا کیا ظلم ہیں؛ ایسے لوگوں کے ایسے ستم صرف یہی لوگ برداشت کر سکتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کی بے رخی اور عاشق کے بے پناہ صبر پر حیرت و داد کا اظہار کر رہا ہے۔ لفظ 'ایسے' کی خوبصورت تکرار یہ ظاہر کرتی ہے کہ جفا ڈھانے والے جتنے بے پروا ہیں، ان کے ستم ہنس کر سہنے والے عاشق بھی اتنے ہی نایاب اور باحوصلہ ہیں۔ یہ عشق کی وہ معراج ہے جہاں شکوہ کرنے کے بجائے اپنے پختہ صبر اور سچی لگن پر ناز کیا جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.