“Why be aggrieved by what the rival says, O Zafar? Neither are they that kind of person, nor such a one am I.”
اے ظفر، میں دشمن کی باتوں پر کیوں آزردہ ہوں؟ نہ تو وہ (محبوب) ایسے شخص ہیں اور نہ ہی ہم ایسے انسان ہیں۔
اس شعر میں ظفر اپنے ہی دل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھلا کسی دشمن یا رقیب کی باتوں پر دل میلا کیوں کیا جائے؟ انہیں اپنے اور محبوب کے رشتے پر مکمل اعتبار ہے کہ نہ تو محبوب ایسا ہے کہ رقیبوں کے بہکاوے میں آ جائے اور نہ ہی وہ خود اتنے کمزور ہیں کہ ایسی باتوں سے بدگمان ہو بیٹھیں۔ یہ شعر محبت کے اس باوقار اور پختہ اعتماد کا عکاس ہے جو دنیا کے حسد، سازشوں اور طعنوں سے کہیں بلند تر ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
