دیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدم مجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں

“When those driven mad by you set foot upon the desert sand, / Even Majnun will bow to kiss their feet—such masters walk the land.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جب تیرے عشق کے دیوانے صحرا میں قدم رکھیں گے تو مجنوں بھی ان کے قدم چومے گا، کیونکہ وہ ایسے عظیم مرتبے والے لوگ ہیں۔

تشریح

کلاسیکی اردو شاعری میں مجنوں کو عشق اور دیوانگی کا سب سے بڑا استعارہ سمجھا جاتا ہے جس نے محبت میں صحرا کی خاک چھانی۔ شاعر اپنے محبوب کے حسن اور اس کے دیوانوں کی شدتِ جذبات کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیرے سچے چاہنے والے جب دشتِ جنون میں اتریں گے، تو خود مجنوں بھی ان کے رتبے کے آگے جھک کر ان کے قدم چوم لے گا۔ یہ محبوب کی والہانہ کشش اور عاشقوں کے لازوال مرتبے کی نہایت خوبصورت تصویر کشی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.