“Well aware are we that Lord Grief is such a formidable soul; and after all, we are his companion—we too are such a soul.”
ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرتِ غم کیسی ہستی ہیں، اور پھر ہم ان کے دوست ہیں یعنی ہم بھی ویسے ہی شخص ہیں۔
اس شعر میں شاعر نے غم کو محض ایک کیفیت نہیں بلکہ ایک باوقار شخصیت یعنی 'حضرتِ غم' کے روپ میں پیش کیا ہے۔ وہ غم کی گہرائی اور اس کے غیر معمولی اثر سے بخوبی واقف ہیں، لیکن خود کو بے بس ظاہر کرنے کے بجائے اسے اپنا ہم نشین قرار دیتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اگر غم اتنا ہی پرشکوہ اور لاجواب ہے، تو اس کے یار ہونے کے ناطے ہم بھی کسی سے کم عجیب اور منفرد نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
