“What is mere creed? Surrender even your soul's faith unto them; O ascetic, by God I swear, these idols are such enchanting beings!”
دین تو معمولی چیز ہے بلکہ ان پر اپنا ایمان بھی نچھاور کر دینا چاہیے؛ اے زاہد، خدا کی قسم یہ بت (محبوب) ایسے ہی لوگ ہیں۔
شاعر یہاں زاہد کو چھیڑتے ہوئے بڑے پرلطف انداز میں کہہ رہے ہیں کہ ان حسین محبوبوں پر صرف دین ہی نہیں بلکہ پورا ایمان بھی نچھاور کیا جا سکتا ہے۔ اردو شاعری میں محبوب کو 'بت' کہنا حسن کی بے پناہ کشش کا استعارہ ہے، اور لطف کی بات یہ ہے کہ شاعر خدا ہی کی قسم کھا کر ان بتوں کے حسن کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ شعر عشق کی اس سرشاری کو خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے جہاں دل کے معاملات کے سامنے خشک پرہیزگاری بے معنی ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
