غزل
چاہوں تو گھونٹ بھروں
چاہوں تو گھونٹ بھروں
یہ غزل محبت میں جدائی اور تڑپ کے گہرے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔ اس میں محبت کی گہرائی اور محبوب سے دوبارہ ملنے کی شدید خواہش کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ نظم دل کی بے چینی اور محبت کے احساس کو نفیس انداز میں بیان کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ચાહું ત્યારે ઘૂંટ ભરું ને ચાહું ત્યારે ત્યાગ કરું!
મારું તો એવું છે મારા ફાવે તેવા ભાગ કરું!
چاہوں جب گھونٹ بھروں اور چاہوں جب تیاگ کروں! میرا تو ایسا ہے، میرے من چاہے بھاگ کروں!
یہ شعر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی چیز کو قبول کرتا یا ترک کرتا ہے، اور اسی طرح اپنی زندگی یا وسائل کو اپنی پسند کے مطابق تقسیم کرتا ہے۔
2
આમ છે આંસુ કેવળ ટીપું કિન્તુ છે તેજાબનું ટીપું
છાંટું ચડાવી આંગળી પર તો પાણીને પણ આગ કરું!
یوں تو آنسو فقط اک قطرہ ہے، لیکن یہ تیزاب کا قطرہ ہےچھڑک کر انگلی پر اسے، میں پانی کو بھی آگ کر دوں!
یہ آنسو صرف قطرے ہیں، لیکن یہ تیزاب کے قطرے ہیں۔ اگر میں انہیں اپنی انگلی پر چھڑکوں تو پانی کو بھی آگ بنا دوں گا۔
3
રૂપ ગંધ રસ સ્પર્શ શબ્દનું મૂલ્ય જ શું છે! આવે તો –
તારા પરથી ઓળધોળ હું રંગરાગનો ફાગ કરું.
شکل، خوشبو، ذائقہ، لمس، اور لفظ کی قیمت ہی کیا ہے! آؤ تو –تجھ پر فدا ہو کر میں رنگِ عشق کا فاگ کروں۔
شکل، خوشبو، ذائقہ، لمس اور لفظ کی کیا قیمت ہے؟ اگر تم آؤ تو، میں تم پر قربان ہو کر عشق اور محبت کا فاگ مناؤں گا۔
4
સારા નરસા દિવસો એ તો ઇચ્છાના ઓછાયા છે,
મારા આ દુર્ભાગ્યને સાજન ઇચ્છું તો સોહાગ કરું!
اچھے بُرے دن تو خواہشوں کے سائے ہیں، میرے اس بدقسمتی کو ساجن چاہوں تو سہاگ کر دوں!
اچھے برے دن ہماری خواہشات کے ہی سائے ہیں۔ اے محبوب، اگر میں چاہوں تو اپنی اس بدقسمتی کو بھی خوش بختی میں بدل سکتی ہوں۔
5
દાગ અને આ દિલનો નાતો હાડચામના જેવો છે,
મૃત્યુ પૂર્વે કેવી રીતે દિલથી અળગા દાગ કરું!
داغ اور اس دل کا ناطہ ہاڑ چام جیسا ہے،موت سے پہلے میں دل سے داغ کیسے جدا کروں!
اس دل اور اس کے داغوں کا رشتہ ہڈی اور گوشت جیسا گہرا ہے۔ موت سے پہلے میں ان داغوں کو اپنے دل سے کیسے جدا کر سکتا ہوں؟
6
કોઈ નિષાદે ચોક્કસ મારો પીછો પકડ્યો લાગે છે,
નહિ તો અદ્ધર પદ્ધર શ્વાસે આમ ન ભાગાભાગ કરું!
کوئی شکاری نے یقیناً میرا پیچھا پکڑا ہے لگتا ہے،ورنہ میں یوں بے دم سانسوں میں نہ بھاگتا پھرتا!
کوئی شکاری نے یقیناً میرا پیچھا پکڑا ہے لگتا ہے،ورنہ میں یوں بے دم سانسوں میں نہ بھاگتا پھرتا!
7
હું પણ ‘ઘાયલ’ આંગળીઓમાં એવું કામણ રાખું છું,
મેળ વગરના તારોને પણ છેડું તો એકરાગ કરું!
میں بھی 'غائل' انگلیوں میں ایسا جادو رکھتا ہوں،بے سُرے تاروں کو بھی چھیڑوں تو یک سُر کرتا ہوں!
میں 'غائل' اپنی انگلیوں میں ایسا جادو رکھتا ہوں کہ بے سُر تاروں کو بھی چھیڑوں تو انہیں ہم آہنگ کر دیتا ہوں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
