غزل
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
اس غزل میں شاعر جوانی کی کج رویوں اور بے راہ رویوں کا اعتراف کرتے ہوئے بھی اس دور کی رعنائیوں کو نہایت حسرت سے یاد کرتا ہے۔ اس میں گزرے ہوئے دنوں کی سرمستی، محبوب کے جلووں اور شیدائیوں کے ہجوم کی پرکشش منظر کشی کی گئی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
गो जवानी में थी कज-राई बहुत
पर जवानी हम को याद आई बहुत
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
2
ज़ेर-ए-बुर्क़ा तू ने क्या दिखला दिया
जम्अ हैं हर सू तमाशाई बहुत
زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا
جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت
3
हट पे इस की और पिस जाते हैं दिल
रास है कुछ उस को ख़ुद-राई बहुत
ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل
راس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت
4
सर्व या गुल आँख में जचते नहीं
दिल पे है नक़्श उस की रानाई बहुत
سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں
دل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت
5
चूर था ज़ख़्मों में और कहता था दिल
राहत इस तकलीफ़ में पाई बहुत
چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل
راحت اس تکلیف میں پائی بہت
6
आ रही है चाह-ए-यूसुफ़ से सदा
दोस्त याँ थोड़े हैं और भाई बहुत
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
7
वस्ल के हो हो के सामाँ रह गए
मेंह न बरसा और घटा छाई बहुत
وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت
8
जाँ-निसारी पर वो बोल उट्ठे मिरी
हैं फ़िदाई कम तमाशाई बहुत
جاں نثاری پر وہ بول اٹھے مری
ہیں فدائی کم تماشائی بہت
9
हम ने हर अदना को आला कर दिया
ख़ाकसारी अपनी काम आई बहुत
ہم نے ہر ادنیٰ کو آلا کر دیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت
10
कर दिया चुप वाक़िआत-ए-दहर ने
थी कभी हम में भी गोयाई बहुत
کر دیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت
11
घट गईं ख़ुद तल्ख़ियाँ अय्याम की
या गई कुछ बढ़ शकेबाई बहुत
گھٹ گئیں خود تلخیاں ایام کی
یا گئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت
12
हम न कहते थे कि 'हाली' चुप रहो
रास्त-गोई में है रुस्वाई बहुत
ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
