چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل
راحت اس تکلیف میں پائی بہت
“Crushed beneath its wounds, yet still my heart would say: in this very torment, profound solace lay.”
— الطاف حسین حالی
معنی
دل زخموں سے چور تھا مگر پھر بھی کہتا تھا کہ اسے اس تکلیف میں بہت زیادہ چین اور راحت ملی ہے۔
تشریح
یہ شعر اردو شاعری کی روایتی کیفیت 'لذتِ درد' کی بڑی دلکش تصویر کشی کرتا ہے۔ دل اگرچہ زخموں سے چور اور لہولہان تھا، مگر شکوہ کرنے کے بجائے اسے اسی کسک اور اذیت میں ایک گہرا سکون مل رہا تھا۔ اصل میں جب دکھ کسی سچی محبت یا لگن میں جھیلا جائے، تو وہ تکلیف رہنے کے بجائے روح کی تسکین اور راحت بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
