“We exalted every lowly soul to noble heights; our self-effacing humility served us exceedingly well.”
ہم نے ہر ادنیٰ اور معمولی شخص کو بڑا رتبہ عطا کیا، ہماری عاجزی اور انکساری ہمارے بہت کام آئی۔
اس شعر میں شاعر نے اپنی خاکساری اور عاجزی کے انوکھے اثر کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ انسان جب خود کو انا سے پاک کر کے مٹا دیتا ہے، تو وہ اپنے خلوص سے ہر معمولی اور کمزور شخص کو بھی عزت اور بلندی عطا کر دیتا ہے۔ اس بات میں ایک لطیف طنز بھی چھپا ہے کہ ہماری اسی بے پناہ نرمی اور خودداری نے عام لوگوں کو بھی خود کو معتبر سمجھنے کا موقع دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
