وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت

“Again and again the stage for union was set, yet came to naught; the dark clouds gathered thick and deep, but never fell the rain.”

— الطاف حسین حالی
معنی

ملاقات کے اسباب بار بار بن کر بھی ادھورے رہ گئے؛ بادل تو بہت گھر کر آئے لیکن بارش نہ ہوئی۔

تشریح

یہ شعر امید کے بندھنے اور پھر ٹوٹ جانے کے کرب کی بڑی دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب سے ملن کی تمام تیاریاں بار بار ہوئیں لیکن وصال کی گھڑی ہاتھ نہ آ سکی، بالکل اُس گھنگھور گھٹا کی طرح جو بارش کی آس تو دلاتی رہی مگر برسی نہیں۔ اس میں آرزو کے جاگنے اور پھر محض پیاس باقی رہ جانے کی گہری اور اداس کیفیت چھپی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.