“Neither cypress nor rose can charm my sight; so deeply etched upon my heart is the splendour of her grace.”
میری آنکھوں کو نہ سرو پسند آتا ہے اور نہ گلاب، کیونکہ میرے دل پر محبوب کے حسن اور دلکشی کا گہرا نقش قائم ہے۔
اردو شاعری میں سرو اور گلاب کو حسن و نزاکت کا سب سے اونچا معیار مانا گیا ہے، مگر شاعر کو اب ان میں کوئی کشش نظر نہیں آتی۔ محبوب کی دلکشی اور رعنائی دل پر اس قدر گہری کندہ ہو چکی ہے کہ نگاہیں کسی اور خوبصورتی کو قبول کرنے پر تیار ہی نہیں۔ جب سچی محبت دل کے تار چھو لے، تو پھر کائنات کا ہر دوسرا دلکش نظارہ ماند پڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
