غزل
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
یہ غزل ہجر کے فلسفے اور عشق کے تضادات کو دلکشی سے بیان کرتی ہے، جس میں عاشق وصال کے مقابلے میں فراق کے دکھ کو بخوشی تسلیم کرتا ہے۔ اس میں محبوب کے تغافل اور کج ادائی کے باوجود اس کے بے مثال حسن اور والہانہ جذبے کا پُرتاثیر اظہار ملتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
ग़म-ए-फ़ुर्क़त ही में मरना हो तो दुश्वार नहीं
शादी-ए-वस्ल भी आशिक़ को सज़ा-वार नहीं
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
شادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں
اگر جدائی کے غم میں ہی مرنا ہو تو یہ کچھ مشکل نہیں، لیکن ملن کی خوشی بھی عاشق کے لائق یا مناسب نہیں ہے۔
2
ख़ूब-रूई के लिए ज़िश्ती-ए-ख़ू भी है ज़रूर
सच तो ये है कि कोई तुझ सा तरह-दार नहीं
خوبروئی کے لیے زشتیٔ خو بھی ہے ضرور
سچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں
خوبصورتی کے نکھار کے لیے مزاج میں تلخی یا بدخلقی کا ہونا بھی ضروری ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ آپ جیسا دلکش اور طرح دار کوئی دوسرا نہیں۔
3
क़ौल देने में तअम्मुल न क़सम से इंकार
हम को सच्चा नज़र आता कोई इक़रार नहीं
قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکار
ہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں
وہ وعدہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی قسم کھانے سے انکار ہے، مگر پھر بھی مجھے ان کا کوئی اقرار سچا دکھائی نہیں دیتا۔
4
कल ख़राबात में इक गोशे से आती थी सदा
दिल में सब कुछ है मगर रुख़्सत-ए-गुफ़्तार नहीं
کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدا
دل میں سب کچھ ہے مگر رخصت گفتار نہیں
کل شراب خانے کے ایک کونے سے یہ آواز آ رہی تھی کہ دل میں سب کچھ موجود ہے، مگر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔
5
हक़ हुआ किस से अदा उस की वफ़ादारी का
जिस के नज़दीक जफ़ा बाइस-ए-आज़ार नहीं
حق ہوا کس سے ادا اس کی وفاداری کا
جس کے نزدیک جفا باعث آزار نہیں
اس شخص کی وفاداری کا حق بھلا کون ادا کر سکتا ہے جس کے نزدیک ظلم و ستم بھی دکھ اور تکلیف کا سبب نہیں ہے۔
6
देखते हैं कि पहुँचती है वहाँ कौन सी राह
काबा ओ दैर से कुछ हम को सरोकार नहीं
دیکھتے ہیں کہ پہنچتی ہے وہاں کون سی راہ
کعبہ و دیر سے کچھ ہم کو سروکار نہیں
ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہاں تک کون سا راستہ پہنچتا ہے؛ ہمیں کعبے یا مندر سے کوئی واسطہ یا غرض نہیں ہے۔
7
होंगे क़ाइल वो अभी मतला-ए-सानी सुन कर
जो तजल्ली में ये कहते हैं कि तकरार नहीं
ہوں گے قائل وہ ابھی مطلع ثانی سن کر
جو تجلی میں یہ کہتے ہیں کہ تکرار نہیں
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تجلی میں دہراؤ نہیں ہوتا، وہ ابھی مطلعِ ثانی سن کر قائل ہو جائیں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
