“Those who claim divine radiance never repeats its grace, / Shall soon be convinced once this second opening verse takes its place.”
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ تجلی میں دہراؤ نہیں ہوتا، وہ ابھی مطلعِ ثانی سن کر قائل ہو جائیں گے۔
تصوف کا ایک گہرا فلسفہ ہے کہ تجلی میں تکرار نہیں ہوتی، یعنی حسن اور نور کا ہر جلوہ انوکھا ہوتا ہے اور دہرایا نہیں جاتا۔ شاعر نے یہاں انتہائی شوخی اور شاعرانہ تعلی کے ساتھ اپنے فن کی بلندی کو سراہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لوگ تجلی کے اعادے کے قائل نہیں، وہ ذرا میری غزل کا مطلعِ ثانی سن لیں؛ کیونکہ یہ دوسرا مطلع بھی حسن و کلام کے اسی پہلے جیسے الہامی نور سے جگمگا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
