“Let us see which path leads to that abode; with the Kaaba or the temple, we have no concern.”
ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہاں تک کون سا راستہ پہنچتا ہے؛ ہمیں کعبے یا مندر سے کوئی واسطہ یا غرض نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر روایتی مذہبی بندھنوں اور ظاہری رسومات سے بے نیاز ہو کر محبوبِ حقیقی تک پہنچنے کی خالص تڑپ بیان کر رہا ہے۔ کعبہ اور دَیر دونوں سے لاتعلقی ظاہر کر کے وہ یہ واضح کرتا ہے کہ اصل اہمیت راستے کے نام یا مسلک کی نہیں، بلکہ منزل کے حصول کی ہے۔ یہ صوفیانہ فکر کا وہ دلکش انداز ہے جہاں خلوصِ دل ہی انسان کو اصل حقیقت سے جوڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
