“A bitter temper is a must to set off beauty's face; the truth is this: no one can match your captivating grace.”
خوبصورتی کے نکھار کے لیے مزاج میں تلخی یا بدخلقی کا ہونا بھی ضروری ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ آپ جیسا دلکش اور طرح دار کوئی دوسرا نہیں۔
اس شعر میں شاعر محبوب کی تند خوئی اور نخروں کو بھی اس کے حسن کا زیور قرار دے کر بڑی چاہت سے داد دے رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ کامل خوبصورتی کے نکھار کے لیے مزاج میں ذرا سی تلخی اور غرور کا تڑکا ہونا بھی لازمی ہے، جو حسن کو اور دلکش بنا دیتا ہے۔ عاشق کو اپنے محبوب کی اس روکھائی اور انداز میں وہ بے پناہ سجاوٹ نظر آتی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
