“Yesterday from a corner of the tavern arose a cry: the heart holds all within, yet speech has been denied.”
کل شراب خانے کے ایک کونے سے یہ آواز آ رہی تھی کہ دل میں سب کچھ موجود ہے، مگر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔
مے خانے کے ایک تنہا گوشے سے ابھرنے والی یہ آواز دراصل اس دل کی صدا ہے جو جذبات، سچائی اور کرب سے لبالب بھرا ہوا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دل میں تو کہے اور ان کہے کا پورا جہان آباد ہے، مگر حالات یا زمانے نے بولنے کا حق ہی چھین رکھا ہے۔ یہ شعر اس دردناک گھٹن اور بے بسی کی ترجمانی کرتا ہے جہاں انسان سب کچھ جانتے اور محسوس کرتے ہوئے بھی خاموش رہنے پر مجبور ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
