غزل

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں
الطاف حسین حالی· Ghazal· 7 shers· radif: नहीं

یہ غزل محبوب کی بدلتی ہوئی توجہ اور کم ہوتے التفات سے پیدا ہونے والے رنج و ملال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں عاشق کے خلوص اور وفا پر قائم رہنے کے باوجود محبوب کی سرد مہری اور بے رخی کے درد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
अब वो अगला सा इल्तिफ़ात नहीं जिस पे भूले थे हम वो बात नहीं
اب وہ اگلا سا التفات نہیں جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں
اب پہلے جیسی توجہ اور التفات نہیں رہا، اور جس بات پر ہم فریفتہ ہوئے تھے اب وہ بات باقی نہیں رہی۔
2
मुझ को तुम से ए'तिमाद-ए-वफ़ा तुम को मुझ से पर इल्तिफ़ात नहीं
مجھ کو تم سے اعتماد وفا تم کو مجھ سے پر التفات نہیں
مجھے تم سے وفاداری پر پورا بھروسا ہے، لیکن تم میری طرف ذرا بھی توجہ نہیں دیتے۔
3
रंज क्या क्या हैं एक जान के साथ ज़िंदगी मौत है हयात नहीं
رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ زندگی موت ہے حیات نہیں
ایک اکیلی جان کے ساتھ کیسے کیسے غم وابستہ ہیں؛ یہ زندگی درحقیقت موت جیسی ہے، کوئی حقیقی حیات نہیں۔
4
यूँही गुज़रे तो सहल है लेकिन फ़ुर्सत-ए-ग़म को भी सबात नहीं
یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن فرصت غم کو بھی ثبات نہیں
اگر زندگی اسی طرح گزر جائے تو آسان ہے، لیکن غم کی اس فرصت کو بھی کوئی ثبات یا دوام حاصل نہیں ہے۔
5
कोई दिल-सोज़ हो तो कीजे बयाँ सरसरी दिल की वारदात नहीं
کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں سرسری دل کی واردات نہیں
اگر کوئی سچا ہمدرد اور سمجھنے والا ملے تبھی دل کا احوال بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دل پر گزرنے والے واقعات کوئی معمولی یا سرسری بات نہیں ہیں۔
6
ज़र्रा ज़र्रा है मज़हर-ए-ख़ुर्शीद जाग ऐ आँख दिन है रात नहीं
ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں
ہر ذرہ سورج کے نور کا مظہر بن چکا ہے؛ اے آنکھ، اب بیدار ہو جا کیونکہ دن ہو چکا ہے، رات نہیں۔
7
क़ैस हो कोहकन हो या 'हाली' आशिक़ी कुछ किसी की ज़ात नहीं
قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں
چاہے قیس ہو، کوہکن ہو یا حالی، عاشقی کسی کی ذاتی میراث یا بپوتی نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

اب وہ اگلا سا التفات نہیں | Sukhan AI