“Be it Qais, the mountain-hewer Kohkan, or Hali— / Love is no one's private birthright or pedigree.”
چاہے قیس ہو، کوہکن ہو یا حالی، عاشقی کسی کی ذاتی میراث یا بپوتی نہیں ہے۔
حالیؔ یہاں قیس (مجنوں) اور فرہاد (کوہکن) جیسے عظیم عشاق کے شانہ بشانہ اپنا ذکر کر کے یہ خوبصورت نکتہ واضح کرتے ہیں کہ عاشقی کسی کی خاندانی میراث یا ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ محبت کے اس راستے میں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا؛ جس دل میں بھی خلوص اور سچی تڑپ ہو، عشق اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہ پاکیزہ جذبہ ہر عاشق کو یکساں مقام عطا کرتا ہے اور سارے روایتی امتیازات مٹا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
