“That former tenderness is felt no more; / The charm that once beguiled me is no longer there.”
اب پہلے جیسی توجہ اور التفات نہیں رہا، اور جس بات پر ہم فریفتہ ہوئے تھے اب وہ بات باقی نہیں رہی۔
یہ شعر تعلقات میں وقت کے ساتھ آنے والی سرد مہری اور بے رخی کے کرب کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ شاعر محسوس کرتا ہے کہ محبوب کی توجہ اور عنایت میں اب وہ پہلی سی اپنائیت باقی نہیں رہی جس کے سحر میں کبھی اس کا دل خود کو بھول بیٹھا تھا۔ یہ کسی شکوے کا نہیں بلکہ اس خاموش افسوس کا اظہار ہے جب محبت کا سنہرا طلسم ٹوٹتا ہے اور حقیقت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
