“What myriad griefs attend a single soul; this life is merely death, not life at all.”
ایک اکیلی جان کے ساتھ کیسے کیسے غم وابستہ ہیں؛ یہ زندگی درحقیقت موت جیسی ہے، کوئی حقیقی حیات نہیں۔
شاعر اِس شعر میں ایک اکیلی اور ناتواں جان پر ٹوٹنے والے بے شمار دُکھوں کا نوحہ بیان کر رہا ہے۔ یہاں 'زندگی' اور 'حیات' کے بیچ کا فرق نہایت دلکش ہے؛ یعنی پیہم غموں کے بوجھ تلے سانسیں کھینچنا دراصل جینا نہیں، بلکہ گھٹ گھٹ کر مرنا ہے۔ یہ شعر انسانی وجود کی اُس گہری تھکن کی عکاسی کرتا ہے جہاں زندہ رہنا بذاتِ خود ایک مسلسل اذیت بن کر رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
