“If it passes like this, it is easy enough; yet even this respite of grief has no permanence.”
اگر زندگی اسی طرح گزر جائے تو آسان ہے، لیکن غم کی اس فرصت کو بھی کوئی ثبات یا دوام حاصل نہیں ہے۔
شاعر یہاں انسانی زندگی کی بڑی نازک حقیقت بیان کر رہے ہیں کہ اگر عمر یوں ہی دھیمی اداسی میں بسر ہو جائے تو جینا شاید آسان ہو جائے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ غم کو محسوس کرنے اور اس کے ساتھ تنہا بیٹھنے کی یہ مہلت بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ وقت اتنا بے رحم ہے کہ وہ انسان کو اپنے رنج میں سکون سے سانس لینے کی فرصت بھی زیادہ دیر نصیب نہیں ہونے دیتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
