غزل
خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
یہ غزل نام نہاد اصلاح اور بے رحم اقدامات پر ایک گہرا طنز ہے، جہاں لوگ آپریشن کی چلت پھرت پر خوش ہیں مگر مریض کی دم توڑتی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ دنیا کی فانی فطرت اور گردشِ ایام کے ستم کو موثر انداز میں بیان کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ख़ुशी है सब को कि ऑपरेशन में ख़ूब निश्तर ये चल रहा है
किसी को इस की ख़बर नहीं है मरीज़ का दम निकल रहा है
خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
کسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے
سب اس بات پر خوش ہیں کہ آپریشن میں نشتر خوب چل رہا ہے، لیکن کسی کو خبر نہیں کہ مریض کی جان نکل رہی ہے۔
2
फ़ना इसी रंग पर है क़ाइम फ़लक वही चाल चल रहा है
शिकस्ता ओ मुंतशिर है वो कल जो आज साँचे में ढल रहा है
فنا اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہے
شکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے
فنا کا سلسلہ اسی طرح قائم ہے اور آسمان اپنی وہی پرانی چال چل رہا ہے؛ جو چیز آج سانچے میں ڈھل رہی ہے، وہ کل ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی۔
3
ये देखते हो जो कासा-ए-सर ग़ुरूर-ए-ग़फ़लत से कल था ममलू
यही बदन नाज़ से पला था जो आज मिट्टी में गल रहा है
یہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملو
یہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ہے
یہ جو سر کی کھوپڑی تم دیکھ رہے ہو، یہ کل تک غفلت کے غرور سے بھری ہوئی تھی، اور یہی بدن جو کبھی ناز و نعم سے پلا تھا، آج مٹی میں گل رہا ہے۔
4
समझ हो जिस की बलीग़ समझे नज़र हो जिस की वसीअ' देखे
अभी यहाँ ख़ाक भी उड़ेगी जहाँ ये क़ुल्ज़ुम उबल रहा है
سمجھ ہو جس کی بلیغ سمجھے نظر ہو جس کی وسیع دیکھے
ابھی یہاں خاک بھی اڑے گی جہاں یہ قلزم ابل رہا ہے
جس کی سمجھ گہری ہو وہ سمجھے اور جس کی نظر وسیع ہو وہ دیکھے، کہ جہاں آج یہ سمندر جوش مار رہا ہے، جلد ہی وہاں صرف خاک اڑے گی۔
5
कहाँ का शर्क़ी कहाँ का ग़र्बी तमाम दुख सुख है ये मसावी
यहाँ भी इक बा-मुराद ख़ुश है वहाँ भी इक ग़म से जल रहा है
کہاں کا شرقی کہاں کا غربی تمام دکھ سکھ ہے یہ مساوی
یہاں بھی اک بامراد خوش ہے وہاں بھی اک غم سے جل رہا ہے
مشرق یا مغرب کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہر جگہ دکھ اور سکھ برابر ہیں؛ یہاں بھی کوئی اپنی مراد پا کر خوش ہے اور وہاں بھی کوئی غم کی آگ میں جل رہا ہے۔
6
उरूज-ए-क़ौमी ज़वाल-ए-क़ौमी ख़ुदा की क़ुदरत के हैं करिश्मे
हमेशा रद्द-ओ-बदल के अंदर ये अम्र पोलिटिकल रहा है
عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمے
ہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے
قوموں کا عروج اور زوال اللہ کی قدرت کے کرشمے ہیں، اور یہ سیاسی معاملہ ہمیشہ ہی رد و بدل اور تبدیلی کی حالت میں رہا ہے۔
7
मज़ा है स्पीच का डिनर में ख़बर ये छपती है पाइनियर में
फ़लक की गर्दिश के साथ ही साथ काम यारों का चल रहा है
مزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میں
فلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے
ڈنر میں تقریروں کا لطف لیا جاتا ہے اور اس کی خبر 'پائنیر' اخبار میں چھپتی ہے؛ اس طرح زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ دوستوں کا کام بھی خوب چل رہا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
