“Why speak of East, why speak of West? Joy and sorrow everywhere are equal: here too, one thrives with wishes granted; there too, one burns in sorrow's flame.”
مشرق یا مغرب کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہر جگہ دکھ اور سکھ برابر ہیں؛ یہاں بھی کوئی اپنی مراد پا کر خوش ہے اور وہاں بھی کوئی غم کی آگ میں جل رہا ہے۔
شاعر مشرق اور مغرب کی ظاہری حد بندیوں کو مٹا کر انسانی جذبات کی عالمگیر سچائی کو بڑی خوبصورتی سے بیان کر رہے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو، دکھ اور سکھ کی گردش ہر جگہ برابر ہے اور دلوں کے احوال جغرافیہ نہیں دیکھتے۔ یہاں کوئی اپنی مراد بر آنے پر مسرور ہے تو وہیں کوئی غم کی تپش میں سلگ رہا ہے، اور یہی مشترکہ انسانی تجربہ دراصل ہم سب کو آپس میں جوڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
