“Oblivion holds its steadfast sway, the heavens play their timeless game: broken and scattered by tomorrow lies all that is cast in molds today.”
فنا کا سلسلہ اسی طرح قائم ہے اور آسمان اپنی وہی پرانی چال چل رہا ہے؛ جو چیز آج سانچے میں ڈھل رہی ہے، وہ کل ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی۔
شاعر یہاں کائنات کے اٹل قانون یعنی فنا اور گردشِ ایام کے نہ بدلنے والے انداز کا ذکر کر رہے ہیں۔ جو شے آج کمال نزاکت سے سانچے میں ڈھل کر نیا روپ پا رہی ہے، کل وقت کی بے رحم ہواؤں سے وہی ٹوٹ پھوٹ کر منتشر ہو جائے گی۔ یہ شعر ہمیں دنیا کی بے ثباتی اور انسانی وجود کی ناپائیداری کا فلسفہ ایک پردرد احساس کے ساتھ سمجھاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
