“This skull you see before you now was brimmed with heedless pride just yesterday; this very flesh, once reared in luxury, now rots to dust in common clay.”
یہ جو سر کی کھوپڑی تم دیکھ رہے ہو، یہ کل تک غفلت کے غرور سے بھری ہوئی تھی، اور یہی بدن جو کبھی ناز و نعم سے پلا تھا، آج مٹی میں گل رہا ہے۔
یہ شعر انسان کو زندگی کی ناپائیداری اور غرور کے کھوکھلے پن کا گہرا احساس دلاتا ہے۔ شاعر ایک بے جان کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کل تک یہ سر غفلت اور تکبر کے نشے میں چور تھا، اور جس جسم کو ناز و نعم سے پالا گیا تھا، وہ آج خاک میں مل کر مٹ رہا ہے۔ یہ دراصل ایک نرم سی وارننگ ہے کہ چاہے انسان کتنا ہی صاحبِ جاہ و حشم کیوں نہ ہو، موت کے روبرو سب کی اصل ایک مٹھی بھر خاک ہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
