“Let those with ripe discernment grasp, let those with expansive vision see: dust will soon scatter and blow right here, where this ocean seethes today.”
جس کی سمجھ گہری ہو وہ سمجھے اور جس کی نظر وسیع ہو وہ دیکھے، کہ جہاں آج یہ سمندر جوش مار رہا ہے، جلد ہی وہاں صرف خاک اڑے گی۔
اس شعر میں شاعر نے جوش مارتے سمندر اور اڑتی ہوئی خاک کے تضاد کے ذریعے دنیا کی بے ثباتی اور زوال کا گہرا فلسفہ بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پختہ شعور اور دور رس نگاہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ آج جہاں عروج، طاقت یا ہنگاموں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، کل وہاں صرف ہو کا عالم اور ویرانی ہوگی۔ یہ شعر دراصل انسان کو وقت کی بے رحمی کا احساس دلاتا ہے اور موجودہ رونقوں کے پیچھے چھپی ناپائیداری کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
