غزل

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 7 shers· radif: लीजिए

یہ غزل عشق میں کامل خود سپردگی اور وارفتگی کے جذبات کا خوبصورت اظہار ہے۔ اس میں عاشق اپنے محبوب کی طلب پر بغیر کسی جھجھک کے دل و جان نچھاور کرنے پر بخوشی راضی نظر آتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
बे-तकल्लुफ़ बोसा-ए-ज़ुल्फ़-ए-चलीपा लीजिए नक़्द-ए-दिल मौजूद है फिर क्यूँ न सौदा लीजिए
بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے نقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے
بغیر کسی جھجھک کے ان خمیدہ زلفوں کا بوسہ لے لیجیے؛ جب دل کی نقد پونجی موجود ہے تو پھر یہ سودا کیوں نہ کر لیا جائے۔
2
दिल तो पहले ले चुके अब जान के ख़्वाहाँ हैं आप इस में भी मुझ को नहीं इंकार अच्छा लीजिए
دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ اس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے
آپ میرا دل تو پہلے ہی لے چکے ہیں اور اب میری جان چاہتے ہیں؛ مجھے اس سے بھی انکار نہیں ہے، ٹھیک ہے یہ بھی لے لیجیے۔
3
पाँव पकड़ कर कहती है ज़ंजीर-ए-ज़िंदाँ में रहो वहशत-ए-दिल का है ईमा राह-ए-सहरा लीजिए
پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہو وحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے
زنداں کی زنجیر پاؤں پکڑ کر کہتی ہے کہ قید میں ہی رہو، جبکہ دل کی وحشت کا اشارہ ہے کہ صحرا کی راہ اختیار کرو۔
4
ग़ैर को तो कर के ज़िद करते हैं खाने में शरीक मुझ से कहते हैं अगर कुछ भूक हो खा लीजिए
غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک مجھ سے کہتے ہیں اگر کچھ بھوک ہو کھا لیجئے
وہ غیر کو تو ضد کر کے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتے ہیں، لیکن مجھ سے بے رخی سے کہتے ہیں کہ اگر بھوک ہو تو کھا لیجیے۔
5
ख़ुश-नुमा चीज़ें हैं बाज़ार-ए-जहाँ में बे-शुमार एक नक़द-ए-दिल से या-रब मोल क्या क्या लीजिए
خوش نما چیزیں ہیں بازار جہاں میں بے شمار ایک نقد دل سے یارب مول کیا کیا لیجئے
دنیا کے اس بازار میں بے شمار خوبصورت چیزیں موجود ہیں، یا رب! دل کے صرف ایک سکے سے انسان کیا کیا خریدے؟
6
कुश्ता आख़िर आतिश-ए-फ़ुर्क़त से होना है मुझे और चंदे सूरत-ए-सीमाब तड़पा लीजिए
کشتہ آخر آتش فرقت سے ہونا ہے مجھے اور چندے صورت سیماب تڑپا لیجئے
آخرکار مجھے جدائی کی آگ میں ہلاک ہی ہونا ہے، اس لیے کچھ دیر اور مجھے پارے کی طرح تڑپا لیجیے۔
7
फ़स्ल-ए-गुल के आते ही 'अकबर' हुए बेहोश आप खोलिए आँखों को साहब जाम-ए-सहबा लीजिए
فصل گل کے آتے ہی اکبرؔ ہوئے بے ہوش آپ کھولیے آنکھوں کو صاحب جام صہبا لیجئے
بہار کا موسم آتے ہی اے اکبر آپ بے ہوش ہو گئے؛ صاحب ذرا آنکھیں کھولیے اور شراب کا جام لیجیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے | Sukhan AI