“Slain at last by the fire of parting I am bound to be; for a while longer, like restless quicksilver, let me writhe in agony.”
آخرکار مجھے جدائی کی آگ میں ہلاک ہی ہونا ہے، اس لیے کچھ دیر اور مجھے پارے کی طرح تڑپا لیجیے۔
شاعر جدائی کے کرب کو بے پناہ سپردگی اور دلکش انداز میں بیان کر رہا ہے کہ میرا انجام تو بالآخر فرقت کی آگ میں جل مرنا ہی ہے۔ وہ محبوب سے کہتا ہے کہ جب فنا ہونا ہی مقدر ہے، تو چند لمحے اور مجھے پارے (سیماب) کی مانند بے چین ہو کر تڑپ لینے دیجیے۔ یہاں سیماب کا استعارہ دل کی اس تپش اور شدید بے قراری کو خوبصورتی سے ظاہر کرتا ہے جو عشق کے آخری لمحات کا مقدر بن چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
