“Without hesitation, take a kiss from those cross-curled tresses; the heart's ready coin is at hand, so why not strike the bargain?”
بغیر کسی جھجھک کے ان خمیدہ زلفوں کا بوسہ لے لیجیے؛ جب دل کی نقد پونجی موجود ہے تو پھر یہ سودا کیوں نہ کر لیا جائے۔
اس شعر میں محبت کو ایک دلکش سودے بازی کے روپ میں بڑی شوخی اور بے باکی سے پیش کیا گیا ہے۔ محبوب کی بل کھاتی، سلیب نما زلفیں اس قدر سحر انگیز ہیں کہ ان کا ایک بوسہ پانے کے لیے عاشق اپنا دل نقد رقم کی صورت قربان کرنے پر تیار ہے۔ شاعر بڑی اپنائیت سے کہتا ہے کہ جب سودے کی قیمت پاس موجود ہے، تو پھر بلا جھجھک یہ سودا فوراً پکا کر لینا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
