“With the arrival of spring, O Akbar, you have swooned away; Open your eyes, good sir, and take this cup of wine.”
بہار کا موسم آتے ہی اے اکبر آپ بے ہوش ہو گئے؛ صاحب ذرا آنکھیں کھولیے اور شراب کا جام لیجیے۔
اس شعر میں بہار کی آمد پر دل و دماغ پر چھا جانے والی مستی کا بڑا شوخ اور خوبصورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔ موسمِ گل کا جادو ایسا چلا کہ اکبرؔ جام کو چھوئے بغیر ہی مدہوش ہو گئے، جس پر ساقی یا کوئی دوست پیار سے چھیڑتے ہوئے کہتا ہے کہ ذرا ہوش میں آئیے، اصل مے نوشی تو اب شروع ہونی ہے۔ یہ شعر فطرت کی نشیلی کیفیت اور غزل کی روایتی شگفتگی کا ایک دلکش امتزاج ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
