“You have already taken my heart, and now it is my life you crave; In this too I have no refusal—very well then, take it!”
آپ میرا دل تو پہلے ہی لے چکے ہیں اور اب میری جان چاہتے ہیں؛ مجھے اس سے بھی انکار نہیں ہے، ٹھیک ہے یہ بھی لے لیجیے۔
اس شعر میں عشق کی اس کیفیت کا اظہار ہے جہاں عاشق خود کو محبوب کے آگے مکمل طور پر بے بس اور سرنگوں پاتا ہے۔ شاعر مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ دل تو آپ پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں، اب اگر آپ کو میری جان بھی چاہیے تو مجھے کوئی عذر نہیں، شوق سے لے لیجیے۔ یہ کوئی شکایت نہیں بلکہ محبت میں فنا ہو جانے اور محبوب کی ہر ضد کے آگے دل وجان سے سر جھکا دینے کا ایک دلکش انداز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
