“The rival they press with insistence to join them in their feast; / To me they casually say, 'Do eat, if hungry in the least.'”
وہ غیر کو تو ضد کر کے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتے ہیں، لیکن مجھ سے بے رخی سے کہتے ہیں کہ اگر بھوک ہو تو کھا لیجیے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی رقیب نوازی اور اپنی بے قدری کو بڑے کاٹ دار اور دل چسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ رقیب کو تو بڑی ضد اور لاڈ سے کھانے میں شریک کیا جا رہا ہے، مگر سچے عاشق سے محض ایک رسمی بے رخی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اگر بھوک ہو تو کھا لو۔ یہ معمولی سا فرق عاشق کے اس دکھ کو کھول کر رکھ دیتا ہے جہاں محبت میں یہ سرد مہری کسی زخم کی طرح دل پر لگتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
