غزل

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 6 shers· radif: दीजिए

یہ طنزیہ غزل سستی شہرت حاصل کرنے اور اخباروں میں نام چھپوانے کی بے تابانہ ہوس پر گہرا طنز کرتی ہے۔ شاعر نے ظریفانہ انداز میں سماج کی بے جا نمود و نمائش اور کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
अपनी गिरह से कुछ न मुझे आप दीजिए अख़बार में तो नाम मिरा छाप दीजिए
اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے
آپ مجھے اپنی جیب سے کچھ مت دیجیے، بس اخبار میں میرا نام چھاپ دیجیے۔
2
देखो जिसे वो पाइनियर ऑफ़िस में है डटा बहर-ए-ख़ुदा मुझे भी कहीं छाप दीजिए
دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے
جسے بھی دیکھو وہ پائنیر کے دفتر میں ڈٹا ہوا ہے اور التجا کر رہا ہے کہ خدا کے واسطے مجھے بھی کہیں چھاپ دیجیے۔
3
चश्म-ए-जहाँ से हालत-ए-असली छुपी नहीं अख़बार में जो चाहिए वो छाप दीजिए
چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے
دنیا کی نظروں سے اصل حقیقت چھپی ہوئی نہیں ہے، اس لیے اخبار میں جو مرضی آئے چھاپ دیجیے۔
4
दा'वा बहुत बड़ा है रियाज़ी में आप को तूल-ए-शब-ए-फ़िराक़ को तो नाप दीजिए
دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے
اگر آپ کو ریاضی میں بڑی مہارت کا دعویٰ ہے، تو ذرا جدائی کی رات کی لمبائی ناپ کر دکھائیے۔
5
सुनते नहीं हैं शैख़ नई रौशनी की बात इंजन की उन के कान में अब भाप दीजिए
سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے
شیخ صاحب نئے زمانے (نئی روشنی) کی بات نہیں سنتے، اس لیے اب ان کے کان میں انجن کی بھاپ دینی چاہیے۔
6
इस बुत के दर पे ग़ैर से 'अकबर' ने कह दिया ज़र ही मैं देने लाया हूँ जान आप दीजिए
اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیا زر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے
اکبر نے محبوب کی چوکھٹ پر رقیب سے کہہ دیا کہ میں تو صرف مال و دولت دینے آیا ہوں، جان آپ ہی نچھاور کیجیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے | Sukhan AI