“Whomever you look upon is camped at the Pioneer’s door; for the love of God, print me somewhere too, I implore!”
جسے بھی دیکھو وہ پائنیر کے دفتر میں ڈٹا ہوا ہے اور التجا کر رہا ہے کہ خدا کے واسطے مجھے بھی کہیں چھاپ دیجیے۔
اس شعر میں اکبر الہ آبادی نے اپنے مخصوص شگفتہ اور ظریفانہ انداز میں اس دور کے معروف انگریزی اخبار ’دی پائنیر‘ کے دفتر کے باہر چھپنے اور مشہور ہونے کے شوقین افراد کا بڑا دلکش نقشہ کھینچا ہے۔ شاعر ازراہِ مذاق دہائی دیتا ہے کہ خدا کے واسطے مجھے بھی کہیں نہ کہیں چھاپ دیجیے تاکہ میرا نام بھی نمایاں ہو سکے۔ بظاہر یہ ایک ہلکی پھلکی بات ہے، مگر اس کے پردے میں سستی شہرت اور نام و نمود کی انسانی بھوک پر گہرا طنز پوشیدہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
