سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

“The Sheikh pays no heed to the talk of the new light; / Now blow the engine's steam straight into his ear.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

شیخ صاحب نئے زمانے (نئی روشنی) کی بات نہیں سنتے، اس لیے اب ان کے کان میں انجن کی بھاپ دینی چاہیے۔

تشریح

اکبر الہٰ آبادی کا یہ شعر روایتی قدامت پسندی اور ہٹ دھرمی پر ایک بے ساختہ اور دلکش طنز ہے۔ 'شیخ' یہاں ان روایتی ذہنوں کی علامت ہیں جو بدلتے ہوئے دور اور جدید خیالات یعنی 'نئی روشنی' کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ شاعر شوخی سے کہتا ہے کہ جب پند و نصیحت سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا، تو اب ریل کے انجن کی تیز بھاپ ہی ان کے کانوں میں مارنی پڑے گی تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہو سکیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.