غزل
تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا
تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا
یہ غزل فقر، درویشی اور انکسار کی روحانی عظمت و شوکت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں ترکِ دنیا اور بے سر و سامانی کو حقیقی سربلندی قرار دیا گیا ہے، جہاں ویرانہ فقیر کا تخت اور بگولا اس کا شاہی تاج بن جاتا ہے، اور نفس کی نفی سے باطنی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तख़्त जिस बे-ख़ानमाँ का दस्त-ए-वीरानी हुआ
सर उपर उस के बगूला ताज-ए-सुल्तानी हुआ
تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا
سر اپر اس کے بگولا تاج سلطانی ہوا
جس بے گھر انسان کا تخت ویران بیابان بن گیا، اس کے سر کے اوپر گھومتا ہوا بگولا ہی اس کا شاہی تاج بن گیا۔
2
क्यूँ न साफ़ी उस कूँ हासिल हो जो मिस्ल-ए-आरसी
अपने जौहर की हया सूँ सर-ब-सर पानी हुआ
کیوں نہ صافی اس کوں حاصل ہو جو مثل آرسی
اپنے جوہر کی حیا سوں سر بسر پانی ہوا
اسے صفائی اور پاکیزگی کیوں حاصل نہ ہو جو آئینے کی طرح اپنے ہی جوہر کی حیا سے سر سے پاؤں تک پانی پانی ہو گیا ہو۔
3
ज़िंदगी है जिस कूँ दाइम आलम-ए-बाक़ी मुनीं
जल्वा-गर कब उस अंगे यू आलम-ए-फ़ानी हुआ
زندگی ہے جس کوں دائم عالم باقی منیں
جلوہ گر کب اس انگے یو عالم فانی ہوا
جس شخص کو ابدی دنیا میں دائمی زندگی حاصل ہے، اس کے سامنے یہ فانی دنیا بھلا کب اپنا جلوہ یا دلکشی دکھا سکتی ہے۔
4
बेकसी के हाल में यक आन मैं तन्हा नहीं
ग़म तिरा सीने में मेरे हमदम-ए-जानी हुआ
بیکسی کے حال میں یک آن میں تنہا نہیں
غم ترا سینے میں میرے ہمدم جانی ہوا
بے بسی کی اس حالت میں، میں ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا نہیں ہوں، کیونکہ میرے سینے میں بسا تمہارا غم میرا جانی دوست بن گیا ہے۔
5
ऐ 'वली' ग़ैरत सूँ सूरज क्यूँ जले नईं रात-दिन
जग मुनीं वो माह रश्क-ए-माह-ए-कनआनी हुआ
اے ولیؔ غیرت سوں سورج کیوں جلے نئیں رات دن
جگ منیں وو ماہ رشک ماہ کنعانی ہوا
اے ولی، سورج غیرت اور جلن کے مارے دن رات کیوں نہ جلے، جب دنیا میں وہ چاند جیسا محبوب ماہِ کنعان (حضرت یوسف) کے لیے بھی رشک کا باعث بن گیا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
