اے ولیؔ غیرت سوں سورج کیوں جلے نئیں رات دن — ولی دکنی

اے ولیؔ غیرت سوں سورج کیوں جلے نئیں رات دن جگ منیں وو ماہ رشک ماہ کنعانی ہوا

“O Wali, why would the sun not burn with envy night and day, when in this world that moon has surpassed even Canaan's moon in radiant grace?”

— ولی دکنی

معنی

اے ولی، سورج غیرت اور جلن کے مارے دن رات کیوں نہ جلے، جب دنیا میں وہ چاند جیسا محبوب ماہِ کنعان (حضرت یوسف) کے لیے بھی رشک کا باعث بن گیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں ولی دکنی اپنے محبوب کے لازوال حسن کو ایک انوکھے اور دلنشیں انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کا چہرہ ایسا روشن چاند بن چکا ہے جس پر خود حسن کی معراج سمجھے جانے والے حضرت یوسفؑ (ماہِ کنعانی) بھی رشک کر رہے ہیں۔ جب محبوب کا جلوہ اس قدر بے مثال ہو، تو سورج کا دن رات غیرت اور حسد کی آگ میں جلتے رہنا تو فطری سی بات ہے۔ شاعر نے کائناتی عناصر کو محبوب کی خوبصورتی کے سامنے ماند کر کے عشق کا خوبصورت سحر جگایا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.