کیوں نہ صافی اس کوں حاصل ہو جو مثل آرسی — ولی دکنی

کیوں نہ صافی اس کوں حاصل ہو جو مثل آرسی اپنے جوہر کی حیا سوں سر بسر پانی ہوا

“Why would pure clarity not be his who, like a polished mirror, / In modest awe of his own essence, turned entirely to water?”

— ولی دکنی

معنی

اسے صفائی اور پاکیزگی کیوں حاصل نہ ہو جو آئینے کی طرح اپنے ہی جوہر کی حیا سے سر سے پاؤں تک پانی پانی ہو گیا ہو۔

تشریح

قدیم زمانے میں آئینے دھات سے بنتے تھے جن کی چمک دمک اور نقش کو ’جوہر‘ کہا جاتا تھا۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی ہی خوبی اور کمال کو دیکھ کر اترانے کے بجائے عاجزی اور شرم سے پانی پانی ہو جائے، اسے بھلا باطنی صفائی اور نور کیوں نہ ملے۔ اصل اجلا پن اور پاکیزگی اسی انسان کا مقدر بنتی ہے جو خود پسندی کو مٹا کر خاکساری اختیار کر لے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.