غزل

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
ولی دکنی· Ghazal· 5 shers· radif: का

یہ غزل عشق کو حیات کا بہترین اور برتر مشغلہ قرار دیتی ہے، جس میں حقیقی اور مجازی محبت کے امتیاز کو مٹا کر دیکھا گیا ہے۔ اس میں محبوب کے حسن و دلکشی کی توصیف کے ساتھ عشق کی عظمت اور والہانہ پن کا دلکش اظہار ملتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
शग़्ल बेहतर है इश्क़-बाज़ी का क्या हक़ीक़ी ओ क्या मजाज़ी का
شغل بہتر ہے عشق بازی کا کیا حقیقی و کیا مجازی کا
عشق میں مشغول رہنا سب سے بہترین مشغلہ ہے، خواہ وہ عشقِ حقیقی ہو یا عشقِ مجازی۔
2
हर ज़बाँ पर है मिस्ल-ए-शाना मुदाम ज़िक्र तुझ ज़ुल्फ़ की दराज़ी का
ہر زباں پر ہے مثل شانہ مدام ذکر تجھ زلف کی درازی کا
جس طرح کنگھی ہر وقت بالوں میں رہتی ہے، اسی طرح ہر زبان پر ہمیشہ تمہاری دراز زلفوں کا ہی چرچا رہتا ہے۔
3
आज तेरी भवाँ ने मस्जिद में होश खोया है हर नमाज़ी का
آج تیری بھواں نے مسجد میں ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا
آج مسجد میں تمہاری بھنوؤں نے ہر نمازی کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
4
गर नईं राज़-ए-इश्क़ सूँ आगाह फ़ख़्र बेजा है फ़ख़्र-ए-राज़ी का
گر نئیں راز عشق سوں آگاہ فخر بے جا ہے فخر رازی کا
اگر انسان عشق کے راز سے باخبر نہیں ہے، تو فخر رازی جیسے بڑے عالم کا سارا فخر اور غرور بھی بے جا اور بے معنی ہے۔
5
ऐ 'वली' सर्व-क़द को देखूँगा वक़्त आया है सरफ़राज़ी का
اے ولیؔ سرو قد کو دیکھوں گا وقت آیا ہے سرفرازی کا
اے ولی، میں سرو کی طرح لمبے قد والے محبوب کو دیکھوں گا؛ اب فخر سے سر بلند کرنے اور سرفرازی پانے کا وقت آ گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.