غزل
ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
یہ غزل محبت کے بتدریج پروان چڑھنے اور محبوب کے آہستہ آہستہ رام ہونے کی دلکش کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ اس میں عاشق کے صبر، والہانہ جذبے اور شمع و پروانے کی طرح فنا ہونے کی لگن کو نہایت نزاکت سے سراہا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
हुए हैं राम पीतम के नयन आहिस्ता-आहिस्ता
कि ज्यूँ फाँदे में आते हैं हिरन आहिस्ता-आहिस्ता
ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
کہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہ
محبوب کی آنکھیں رفتہ رفتہ اسی طرح قابو میں آ گئی ہیں، جیسے ہرن آہستہ آہستہ شکاری کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
2
मिरा दिल मिस्ल परवाने के था मुश्ताक़ जलने का
लगी उस शम्अ सूँ आख़िर लगन आहिस्ता-आहिस्ता
مرا دل مثل پروانے کے تھا مشتاق جلنے کا
لگی اس شمع سوں آخر لگن آہستہ آہستہ
میرا دل پروانے کی طرح جلنے کا مشتاق تھا، اور آخرکار رفتہ رفتہ اس شمع سے اس کا لگاؤ پیدا ہو گیا۔
3
गिरेबाँ सब्र का मत चाक कर ऐ ख़ातिर-ए-मिस्कीं
सुनेगा बात वो शीरीं-बचन आहिस्ता-आहिस्ता
گریباں صبر کا مت چاک کر اے خاطر مسکیں
سنے گا بات وو شیریں بچن آہستہ آہستہ
اے بے بس دل، اپنے صبر کا گریبان چاک مت کر؛ وہ میٹھی باتوں والا محبوب آہستہ آہستہ تمہاری بات ضرور سنے گا۔
4
गुल ओ बुलबुल का गुलशन में ख़लल होवे तो बरजा है
चमन में जब चले वो गुल-बदन आहिस्ता-आहिस्ता
گل و بلبل کا گلشن میں خلل ہووے تو برجا ہے
چمن میں جب چلے وو گل بدن آہستہ آہستہ
باغ میں جب وہ گل بدن محبوب آہستہ آہستہ چلتا ہے، تو گل اور بلبل کے حال میں خلل واقع ہونا بالکل بجا اور جائز ہے۔
5
'वली' सीने में मेरे पंजा-ए-इश्क़-ए-सितमगर ने
किया है चाक दिल का पैरहन आहिस्ता-आहिस्ता
ولیؔ سینے میں میرے پنجۂ عشق ستم گر نے
کیا ہے چاک دل کا پیرہن آہستہ آہستہ
اے ولی! میرے سینے کے اندر ظالم عشق کے پنجے نے آہستہ آہستہ دل کا لباس پھاڑ دیا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
