“If turmoil stirs the rose and nightingale within the garden, it is only fair, When that rose-limbed grace strolls through the bower, so softly and so slow.”
باغ میں جب وہ گل بدن محبوب آہستہ آہستہ چلتا ہے، تو گل اور بلبل کے حال میں خلل واقع ہونا بالکل بجا اور جائز ہے۔
اردو شاعری میں گل اور بلبل حسن و عشق کی روایتی علامتیں ہیں جن کے دم سے چمن کا نظام قائم ہے۔ ولی دکنی کہتے ہیں کہ جب وہ پھول جیسے نازک اور حسین بدن والا محبوب باغ میں دھیمی دھیمی دلکش چال سے قدم رکھتا ہے، تو گلشن میں ہلچل مچ جانا بالکل بجا ہے۔ اس کے بے مثال حسن کو دیکھ کر اصل گلاب شرمندہ ہو جاتے ہیں اور بلبلیں حیرت سے اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
