غزل

بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں

بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں
ولی دکنی· Ghazal· 5 shers· radif: सूँ

یہ غزل عشق کی تپش اور شعلہ بار کیفیت کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کے حسن اور محبت کی ہوا سے عاشق کا دل شعلے کی طرح بھڑک اٹھتا ہے۔ شاعر اپنی پر سوز آہوں کے اثرات اور فنا کر دینے والے عشق کا اظہار نہایت پر اثر انداز میں کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
भड़के है दिल की आतिश तुझ नेह की हवा सूँ शोला नमत जला दिल तुझ हुस्न-ए-शोला-ज़ा सूँ
بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں شعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوں
تمہاری محبت کی ہوا سے میرے دل کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، اور تمہارے شعلہ پیدا کرنے والے حسن کی وجہ سے میرا دل شعلے کی مانند جل اٹھا ہے۔
2
गुल के चराग़ गुल हो यक बार झड़ पड़ें सब मुझ आह की हिकायत बोलें अगर सबा सूँ
گل کے چراغ گل ہو یک بار جھڑ پڑیں سب مجھ آہ کی حکایت بولیں اگر صبا سوں
اگر بادِ صبا سے میری آہ کی داستان بیان کر دی جائے، تو پھولوں کے سارے چراغ ایک دم بجھ جائیں اور سب کے سب جھڑ پڑیں۔
3
निकली है जस्त कर कर हर संग-दिल सूँ आतिश चक़माक़ जब पलक की झाड़ा है तूँ अदा सूँ
نکلی ہے جست کر کر ہر سنگ دل سوں آتش چقماق جب پلک کی جھاڑا ہے توں ادا سوں
جب بھی تم نے ناز و ادا سے اپنی پلکوں کے چقماق کو جھاڑا، تب ہر سنگ دل کے سینے سے تڑپ کر آگ کے شعلے نکل پڑے۔
4
सज्दा बदल रखे सर सर-ता-क़दम अरक़ हो तुझ बा-हया के पग पर आ कर हिना हया सूँ
سجدہ بدل رکھے سر سر تا قدم عرق ہو تجھ با حیا کے پگ پر آ کر حنا حیا سوں
مہندی تم جیسی باحیا کے قدموں پر آ کر شرم کے مارے سر سے پاؤں تک پسینے سے تر ہو گئی ہے اور سجدے میں اپنا سر جھکائے ہوئے ہے۔
5
याँ दर्द है परम का बेहूदा सर कहे मत ये बात सुन 'वली' की जा कर कहो दवा सूँ
یاں درد ہے پرم کا بیہودہ سر کہے مت یہ بات سن ولیؔ کی جا کر کہو دوا سوں
یہاں سچے عشق کا درد ہے، اس لیے فضول باتیں مت کرو؛ ولیؔ کی یہ بات سنو اور جا کر براہِ راست دوا سے کہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.