“Fire leaped forth in sparks from every heart of stone, whenever with graceful charm you struck the flint of your lashes.”
جب بھی تم نے ناز و ادا سے اپنی پلکوں کے چقماق کو جھاڑا، تب ہر سنگ دل کے سینے سے تڑپ کر آگ کے شعلے نکل پڑے۔
شاعر نے اس شعر میں محبوب کی پلکوں کو چقماق یعنی آگ پیدا کرنے والے پتھر سے تشبیہ دی ہے۔ محبوب جب کمال کی نزاکت اور ادا سے پلکیں جھپکاتا ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے چقماق ٹکرایا ہو اور ہر سنگ دل انسان کے اندر سے بھی محبت کی چنگاریاں اڑنے لگتی ہیں۔ سیدھے لفظوں میں، حسن کی اس دلکش ادا کے سامنے کوئی بھی دل، چاہے وہ پتھر ہی کیوں نہ ہو، پگھلے بغیر نہیں رہ سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
