گل کے چراغ گل ہو یک بار جھڑ پڑیں سب مجھ آہ کی حکایت بولیں اگر صبا سوں

“The lamps of the rose would be snuffed out and scatter all at once, were the tale of my burning sigh recounted to the morning breeze.”

— ولی دکنی
معنی

اگر بادِ صبا سے میری آہ کی داستان بیان کر دی جائے، تو پھولوں کے سارے چراغ ایک دم بجھ جائیں اور سب کے سب جھڑ پڑیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے لفظ 'گل' کے ساتھ کمال کی رعایتِ لفظی برتی ہے، جہاں گل سے مراد پھول بھی ہے اور چراغ کا بجھ جانا بھی۔ وہ کھلے ہوئے لال گلابوں کو چمن میں جلتے ہوئے روشن چراغوں کی مانند دیکھتے ہیں۔ مگر عاشق کی پُرسوز آہ میں ایسا تپتا ہوا درد ہے کہ اگر صبح کی نسیمِ سحر ان پھولوں کو اس کے غم کا قصہ سنا دے، تو یہ سارے چراغ ایک ہی پل میں بجھ جائیں گے اور ان کی پتیاں خاک میں بکھر جائیں گی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.